الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
صَلَّی اللہُ عَلٰی حَبِیْبِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمْ
الہی بحر مت شیخ المشائخ ہادی راہ حقیقت واقف اسرار طریقت حضرت خواجہ محمدقاسم موہڑوی رضی اللہ عنہ

آپ کا شجرہء نسب سلاطین ایران کے کیانی خاندان سے مِلتا ہے آپ کے اباؤ اجداد عہدِ عالمگیری میں ایران سے ہندوستان آئے،آپ کے والد افغانستان و غزنی کے راستے ایران اور سری نگر کے درمیان تجارت کیا کرتے تھے

آپ کی وِلادت غالباً 1845 میں ہوئی،آپ کا سِن مبارک 6 ماہ ہی تھا کہ آپ کے والد اِس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے،،والدہ ماجدہ تقدس مآب خاتون تھیں،ہوش سنبھالنے پر اُنہوں نے آپکی تعلیم کا انتظام کیا،،آپ نے مُروجہ اِسلامی عُلوم زمانے کے قابل اساتذہ سے حاصل کئے اور مزید تعلیم کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعد جگیوٹ میں ایک مدرسہ قائم کیا،اُس وقت تک آپ کا شُمار عِلاقہ کے جید علماء میں ہونے لگا۔۔

دِل میں ایک خواہش ہمہ وقت رہتی کہ عِلم تو ایک لِباس ہے اَصل مقصد تو حقیقت تک پہنچنا ہے،،،،،عبادت و ریاضت کیساتھ آپ مرُشد کی تلاش میں تھے کہ اِسی دوران آپ کو حضرت خواجہ نِظام الدین کیانوی رحمتہ اللہ علیہ (کیاں شریف کشمیر) کے پاس حاضری کا اِرشاد ہوا،چنانچہ آپ کیاں شریف پہنچے خواجہ نے خِلافت اور بیعت سے نواز کر موہڑہ شریف کے دُور دراز اور دُشوار گُزار پہاڑی عِلاقے میں قِیام کا حُکم دِیا،،آپ نے اِرشادِ مُرشدی کی تعمیل میں ستر سال کا طویل عرصہ خلقِ خُدا کی رہنمائی اور عِبادت و رِیاضت میں گُزارا،بےشُمار رہِ طریقت کے سالک آُپ کے ذریعے کمال تک پہنچے،آپ ہر وقت یہاں تک کہ رات کو بھی جُبہ زیبِ تن رکھتے تھے کِسی نے پوچھا تو فرمایا

"جِس طرح مُلازم باوردی ڈیوٹی پر ہوتا ہے میں چاہتا ہوں کہ میرا ہر لمحہ یادِ خُدا اور مخلوقِ خُدا کی ہِدایت میں باوردی لِکھا جائے"

ایک بار فرمایا " اللہ نے مجھے بحر معرفت کے کنارے پر بِٹھایا ہے جو بھی سالکِ راہِ حقیقت سچی طلب اور لگن لے کر میرے پاس آئے گا میں اُس کو اِس بحر میں غوطہ زن کر کے پار لگا دُوں گا،آگے قبول کرنے والی ذات تو وہی مالک الملک ہے"

آپ کے مُریدین کی تعداد 14 لاکھ بتائی جاتی ہے آپ کا سِلسلہ کشمیر افغانستان،ایران،ہندوستان،تِبت اور چینی تُرکستان تک پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔آپ کی بے شُمار کرامات ہیں،،،،،،،سب سے بڑی کرامت دربارِ عالیہ موہڑہ شریف کا قیام ہے،،،،،،،،،

1892 میں جب آپ کیاں شریف کے سفر پر روانہ ہوئے تو اپنے فرزندِ اکبر حضرت پیر نظیر احمد رحمتہ اللہ علیہ کو ہمراہ لے گئے حضرت سُلطان الملوک خواجہ کیانوی (رح) نے کمال شفقت اور مہربانی سے اپنا دستِ شفقت حضرت پیر نظیر احمد صاحب کے چہرہء اقدس پر پھیرا اور فرمایا "جاؤ تُمہاری سات پُشتوں سے بِلا مشقت اولیاء پیدا ہونگے"

پون صَدی قبل تصوف و معرفت پر اِسرار و حقائق کی ضیا پاشی کرنے والا آفتابِ معرفت اور عظیم البرکت ہستی حضرت خواجہ محمد قاسم صادق(رح) نے 21 نومبر 1943 بروز ہفتہ کو داعئ اجل کو لبیک کہا، مزار شریف موہڑہ شریف میں مرجع خواص و عوام ہے جِس کے اندرونی نقش و نِگار آنکھوں کو خِیرہ کر دیتے ہیں۔۔۔ حضرت باواجی صاحب نے اپنے نُورِ نظر حضرت خواجہ پیر نظیر احمد صاحب کو جانشین مقرر فرمایا،آغوشِ پِدری میں قلب و نظر کی کایا پلٹنے کے گُر سیکھنے کے بعد اور عُلوم دینیہ مقتدر دینی عُلماء سے حاصل کرنے کے بعد حضرت پیر صاحب نے "یاغستان" میں اِسلامی رِیاست "نُصرتِ اِسلام" کی داغ بیل ڈالی حضرت باواجی صآحب نے فرمایا کہ آپ دُنیا پر حکومت کے لئے نہیں بلکہ دِلوں پر حکومت کے لئے اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا کئے گئے ہیں۔۔حضرت باواجی صاحب اپنے باکمال فرزند کے رُوحانی مقامات اور مراتب سے بَخوبی آگاہ تھے۔ایک دفعہ حضرت باواجی صاحب ،حضرت پیر صاحب کے لِئے اپنی نشست سے قدرے اُوپر اُٹھے حاضرین میں سے کِسی حرفِ اعتراض بُلند کیا تو باواجی صاحب نے فرمایا کہ "میں نے ایسا اِن کے مقامِ غوثیت کی وجہ سے کیا ہے"

حضرت پیر صاحب کا سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عِشق والہانہ تھا ،،اپنے آخری عُرسِ مُبارک پر خِطاب کرتے ہوئے فَرمایا کہ "اے لوگو جو دُور دراز کا سفر کرکے یہاں آئے ہو اور کئی خواہشات لیکر آئے ہو اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالٰی تُمہاری آرزوئیں پوری کرے گا،جِس طرح تُم لوگوں کہ آرزوئیں ہیں اِس طرح میری بھی ایک آرزو ہے اور وہ آرزو یہ ہے کہ جب قیامت کا میدان ہو اور تمام خَلقِ خدا اِکٹھی ہو اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم مقام محمود پر جلوہ افروز ہوں اور آپ سب لوگ ایک ہار کی صورت میں میرے گلے میں ہوں اور میرا سَر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قَدموں میں ہو ،،اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ اگلے عُرس پر آپ مجھے یہاں نہ دیکھیں ۔۔"

18 سال تک زِینتِ مسند آرائے قاسمیہ رہنے کے بعد 22 جولائی 1960،بروز جمعتہ المُبارک

کو شریعت و طریقت کے یہ نَیّرِ تاباں اپنے خآلقِ حقیقی سے جا مِلے۔۔۔۔۔قبر شریف موہڑہ شریف میں ہے جِس پر ایک خوبصورت قُبہ مبارک موجود ہے ۔۔۔۔۔

آپ نے اپنی زِندگی میں ہی اَپنے پیارے لختِ جِگر اور ایک جوہرِ قابل مُرید حضرت خواجہ پیر ہارون الرشید صاحب مدظلہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا حضرت خواجہ پیر ہارون الرشید صاحب تقریباً نِصف صدی سے زینت آرائے مسند قاسمیہ و نظیریہ ہیں اور شب و روز سِلسلہ عالیہ کی ترویج میں مصروفِ عمل ہیں ۔۔۔

حضرت خواجہ محمد قاسم صادق (رح) کا عرُس مبارک ہر سال نومبر کے پہلے ہفتے میں موہڑہ شریف میں منعقد ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے آپ کے مریدین حاضر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خواجہ قاسم پیر را روشن ضمیر
کاروانِ عشق و مستی را امیر

دعا گو ملک حبیب

 

Golden Sayings

Read Golden Sayings of Murshid E Kamil

Books & Booklets

Download Murshid E Kamil Books & Booklets

Waseel-e-Nijaat Part-47

Download Aqaid Ahle Sunnah Wal Jammah